"دو محرم؛ جب کربلا نے آغوشِ انتظار وا کی اور حسینؑ اتر آئے"

حوزہ/محرم کا چاند طلوع ہو چکا تھا، فضاؤں میں ایک خاموش اداسی اتر آئی تھی، دلوں پر غم کا ایک انجانا بوجھ محسوس ہونے لگا تھا، گویا زمین کسی عظیم سانحے کے انتظار میں تھی، گویا آسمان ایک دردناک منظر کے استقبال کے لئے خود کو آمادہ کر رہا تھا، گویا فرات کی موجیں بھی آنے والے ایّام کی خبر سن کر سسک رہی تھیں۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| محرم کا چاند طلوع ہو چکا تھا، فضاؤں میں ایک خاموش اداسی اتر آئی تھی، دلوں پر غم کا ایک انجانا بوجھ محسوس ہونے لگا تھا، گویا زمین کسی عظیم سانحے کے انتظار میں تھی، گویا آسمان ایک دردناک منظر کے استقبال کے لئے خود کو آمادہ کر رہا تھا، گویا فرات کی موجیں بھی آنے والے ایّام کی خبر سن کر سسک رہی تھیں۔

اور پھر دو محرم الحرام سن 61 ہجری کا آفتاب طلوع ہوا۔

یہ وہ دن تھا جب نواسۂ رسولِ اکرمؐ، نورِ چشمِ زہراؑ، وارثِ شجاعتِ علویؑ، حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے اہلِ بیتِ اطہارؑ اور اصحابِ باوفا کے ہمراہ اس سرزمین پر وارد ہوئے جسے دنیا "کربلا" کے نام سے جانتی ہے، مگر اہلِ عرفان اسے "وادیِ عشق"، اہلِ وفا اسے "حریمِ حسینؑ" اور اہلِ بصیرت اسے "میدانِ حق و باطل" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

کہتے ہیں بعض سرزمینیں بھی تاریخ کے راز اپنے سینے میں محفوظ رکھتی ہیں۔ کچھ زمینیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں قدرت کسی عظیم واقعہ کے لئے منتخب کر لیتی ہے۔ کربلا بھی ایسی ہی ایک سرزمین تھی۔ اس کی خاک صدیوں سے ایک امانت کی منتظر تھی۔ وہ منتظر تھی کہ ایک دن فاطمہ زہراؑ کا لال اس کے دامن میں اترے گا۔ وہ منتظر تھی کہ ایک دن نبوت کا چراغ اس کی خاک پر سجدۂ بندگی ادا کرے گا۔ وہ منتظر تھی کہ ایک دن ایثار، وفا، صبر اور رضا کی سب سے عظیم داستان اسی کے سینے پر رقم ہوگی۔

چنانچہ جب قافلۂ حسینیؑ اس سرزمین کے قریب پہنچا تو گویا کربلا نے اپنی آغوشِ انتظار وا کر دی۔ فضا پر سکوت طاری ہوگیا۔ ہوائیں مدھم پڑ گئیں اور فرات کی لہریں خاموشی سے اس قافلۂ نور کا استقبال کرنے لگیں۔

امام حسین علیہ السلام نے دریافت فرمایا: "اس سرزمین کا نام کیا ہے؟"

عرض کیا گیا: "قادسیہ۔" آپؑ نے فرمایا: "کیا اس کا کوئی اور نام بھی ہے؟" عرض کیا گیا: "نینوا۔" آپؑ نے پھر دریافت فرمایا: "اور؟" عرض کیا گیا: "طف۔" آپؑ نے فرمایا: "اور کوئی نام؟" عرض کیا گیا: "جی ہاں، اسے کربلا بھی کہا جاتا ہے۔"

جوں ہی "کربلا" کا نام آپؑ کے گوشِ مبارک سے ٹکرایا، آپؑ نے فرمایا: "اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَرْبِ وَالْبَلَاءِ"
"پروردگارا! میں غم اور بلا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"

پھر فرمایا: "هٰهُنَا مَنَاخُ رِكَابِنَا وَمَحَطُّ رِحَالِنَا وَمَسْفَكُ دِمَائِنَا وَمَقْتَلُ رِجَالِنَا" "یہی ہمارے قافلے کی منزل ہے، یہی ہمارے خیموں کا مقام ہے، یہی ہمارے خون بہنے کی جگہ ہے اور یہی ہمارے مردانِ حق کی شہادت گاہ ہے۔"

یہ الفاظ صرف ایک پیشنگوئی نہیں تھے بلکہ علمِ امامت کی زبان سے ادا ہونے والی وہ حقیقت تھی جو چند روز بعد تاریخ کا سب سے عظیم باب بننے والی تھی۔

خیمے نصب ہونے لگے۔ بظاہر یہ چند خیمے تھے، مگر حقیقت میں یہ تاریخِ انسانیت کے مقدس ترین خیمے تھے۔
یہ وہ خیمے تھے جہاں عبادت کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ جہاں قرآن کی تلاوت کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔ جہاں عصمت و طہارت سکونت پذیر تھی۔ جہاں زینبِ کبریٰؑ کا صبر تھا۔ جہاں عباسِ علمدارؑ کی وفا تھی۔ جہاں علی اکبرؑ کی جوانی تھی۔ جہاں قاسمؑ کا جذبہ شہادت تھا۔ جہاں سکینہؑ کی معصوم مسکراہٹیں تھیں۔ اور انہی خیموں کے درمیان حسینؑ تھے؛ وہ حسینؑ جن کے بارے میں رسولِ خداؐ نے فرمایا: "حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ" مگر وقت کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ چند ہی دن بعد یہی خیمے آگ کے شعلوں کی نذر ہونے والے تھے۔

دو محرم؛ کربلا کے غم کی پہلی منزل، دو محرم کو ابھی تلواریں نیاموں میں تھیں۔ ابھی نیزے خاموش تھے۔ ابھی میدانِ جنگ سجا نہ تھا۔ ابھی پیاس کا محاصرہ شروع نہ ہوا تھا۔ ابھی بچوں کے لب خشک نہ ہوئے تھے۔ ابھی علی اصغرؑ کی گردن پر تیر نہ چلا تھا۔ ابھی عباسؑ کے بازو قلم نہ ہوئے تھے۔ ابھی علی اکبرؑ نے میدان کا رخ نہ کیا تھا۔ ابھی حسینؑ کا سجدۂ آخر باقی تھا۔

لیکن اس کے باوجود کربلا غمگین تھی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ چند روز بعد اس کی خاک شہداء کے خون سے معطر ہونے والی ہے۔

حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا بھی اسی سرزمین پر وارد ہوئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ سفر عام سفر نہیں۔ یہ قربانیوں، مصیبتوں اور امتحانات کا سفر ہے۔ لیکن دخترِ علیؑ کے قدموں میں لغزش نہ آئی۔ ان کے عزم میں کمی نہ ہوئی۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ راہ خدا ہے، اور خدا کی راہ میں آنے والی ہر مصیبت عبادت بن جاتی ہے۔

دوسری جانب فرات بہہ رہی تھی۔ پانی موجیں مار رہا تھا۔ مگر شاید اس کے مقدر میں بھی ایک غم لکھا جا چکا تھا۔ چند روز بعد اسی دریا کے کنارے اہلِ بیتؑ کے بچے پیاس سے تڑپیں گے۔ سقائے کربلاؑ اسی کے کنارے وفا کی لازوال داستان رقم کریں گے اور فرات رہتی دنیا تک امام حسین علیہ السلام کی تشنگی کی گواہ بن جائے گی۔

دو محرم کو سلام

سلام ہو اس دن پر جب امام حسین علیہ السلام کربلا میں وارد ہوئے۔
سلام ہو اس خاک پر جس نے قدم بوسی کا شرف پایا۔
سلام ہو ان خیموں پر جو چند روز بعد جلائے جانے والے تھے۔
سلام ہو ان بچوں پر جن کے حصے میں پیاس آئی۔
سلام ہو ان جوانوں پر جنہوں نے راہِ خدا میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔
سلام ہو عباسؑ کی وفا پر۔
سلام ہو علی اکبرؑ کی جوانی پر۔
سلام ہو علی اصغرؑ کی معصومیت پر۔
سلام ہو زینبؑ کے صبر پر اور سلام ہو اس حسینؑ پر جنہوں نے کربلا کو ایک سرزمین سے بڑھ کر حق، حریت، ایثار، وفا اور عشقِ الٰہی کا ابدی استعارہ بنا دیا۔

السلام علی الحسینؑ وعلی علی بن الحسینؑ وعلی اولاد الحسینؑ وعلی اصحاب الحسینؑ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha